فائل فوٹو ٹائپ 2 ذیابیطس: نوجوانوں میں بڑھتی شرح اور احتیاطیں
فائل فوٹو ٹائپ 2 ذیابیطس اب صرف بڑی عمر کے افراد کی بیماری نہیں رہی بلکہ ڈاکٹرز 20 اور 30 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بھی اس کی تشخیص کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ طرزِ زندگی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیاں، وزن میں اضافہ، کم حرکت، اور غلط کھانے کی عادتیں ہیں۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ حالت وقت کے ساتھ دل، گردوں، اعصاب اور بینائی سمیت کئی نظاموں کو متاثر کر سکتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی خصوصیت انسولین ریزسٹنس ہوتی ہے، یعنی جسم انسولین کو مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ ابتدا میں لبلبہ (pancreas) زیادہ انسولین بنا کر مسئلہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے، مگر وقت کے ساتھ انسولین کی پیداوار کم پڑتی ہے اور بلڈ شوگر بڑھنے لگتی ہے۔ اسی لیے بہت سے مریض پہلے پری ڈایبیٹیز کے مرحلے میں ہوتے ہیں، جسے نظر انداز کرنا بعد میں علاج کو مشکل بنا دیتا ہے۔
نوجوانوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کیوں بڑھ رہی ہے؟
کئی عوامل مل کر خطرہ بڑھاتے ہیں:
- بیٹھے رہنے کی عادت: کم چہل قدمی، اسکرین ٹائم میں اضافہ اور ورزش کی کمی
- غذا کی غلطیاں: میٹھے مشروبات، پراسیسڈ فوڈز، زیادہ میدہ اور چکنائی والی خوراک
- وزن میں اضافہ: خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی انسولین ریزسٹنس کو بڑھاتی ہے
- نیند کی کمی: کم نیند ہارمونز کے توازن کو متاثر کر کے شوگر کنٹرول خراب کر سکتی ہے
- خاندانی اثرات: اگر خاندان میں ذیابیطس موجود ہو تو رسک بڑھ جاتا ہے
ابتدائی علامات جن پر توجہ ضروری ہے
ٹائپ 2 ذیابیطس بعض اوقات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہے۔ درج ذیل علامات موجود ہوں تو ٹیسٹ کروانا بہتر ہے:
- زیادہ پیاس اور بار بار پیشاب
- تھکن، کمزوری اور توجہ میں کمی
- بھوک بڑھ جانا یا وزن میں غیر معمولی کمی/اضافہ
- زخموں کا دیر سے بھرنا
- نظر دھندلانا یا بار بار انفیکشن
تشخیص کے لیے عموماً ڈاکٹر فاسٹنگ بلڈ شوگر, HbA1c اور بعض صورتوں میں گلوکوز ٹولیرنس ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ HbA1c خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ پچھلے چند مہینوں کی اوسط شوگر بتاتا ہے۔
کنٹرول کا اصل راستہ: لائف اسٹائل تبدیلیاں
اگرچہ بعض مریضوں کو ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے، مگر طرزِ زندگی میں تبدیلیاں علاج کی بنیاد ہوتی ہیں۔ عملی طور پر:
- کھانے کی منصوبہ بندی: میٹھے مشروبات، کولڈ ڈرنکس اور پیکڈ اسنیکس کم کریں۔ سبزیوں، دالوں، پروٹین اور فائبر والی غذا بڑھائیں۔
- حصہ (portion) کنٹرول: ایک وقت میں زیادہ کھانے سے پرہیز کریں، خاص طور پر رات کے کھانے میں۔
- روزانہ حرکت: ہفتے میں کم از کم 150 منٹ تیز چہل قدمی یا مناسب ورزش کا ہدف رکھیں۔
- وزن کا ہدف: معمولی وزن کم کرنا بھی انسولین ریزسٹنس کم کر سکتا ہے۔
- نیند اور اسٹریس مینجمنٹ: 7 سے 8 گھنٹے نیند اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں۔
نوجوان عمر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں امید ختم ہو گئی ہے۔ بروقت ٹیسٹ، درست علاج، اور مستقل لائف اسٹائل تبدیلیاں شوگر کو بہتر کنٹرول میں رکھ کر پیچیدگیوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہیں۔ اگر آپ کو اوپر بیان کردہ علامات میں سے کوئی علامت محسوس ہو رہی ہو یا خاندانی رسک موجود ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کر کے ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)