اسلام آباد اکنامک سمٹ 2026: پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر
اسکرین گریباسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کے دوران پاکستان کی معیشت کو استحکام کی جانب گامزن قرار دے دیا گیا۔ مقررین کے مطابق حالیہ پالیسی اقدامات، ادارہ جاتی اصلاحات اور توانائی و مالیاتی شعبوں میں بہتری کی سمت پیش رفت نے معیشت کے لیے امید افزا فضا پیدا کی ہے۔ اس موقع پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ استحکام کو پائیدار بنانے کے لیے اصلاحات کے تسلسل، شفاف حکمرانی اور سرمایہ کاری دوست ماحول ناگزیر ہے۔
سمٹ میں گفتگو کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ معاشی استحکام محض اعداد و شمار کی سطح پر نہیں بلکہ روزمرہ معاشی سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور کاروباری اعتماد میں واضح تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ جب مالی نظم و ضبط بہتر ہوتا ہے اور پالیسیوں میں تسلسل آتا ہے تو بیرونی سرمایہ اور مقامی کاروبار دونوں کے لیے امکانات بڑھتے ہیں۔ اسی تناظر میں شرکاء نے حکومت، نجی شعبے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
سرمایہ کاری، توانائی اور مالیاتی اصلاحات پر فوکس
سمٹ کے دوران سرمایہ کاری کے حوالے سے واضح روڈمیپ زیرِ بحث آیا۔ مقررین نے کہا کہ کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، رجسٹریشن اور ٹیکس نظام میں سہولت، اور ادائیگیوں کے عمل کو شفاف بنانا سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو بھی بنیادی ستون قرار دیا گیا، کیونکہ بجلی کی دستیابی اور لاگت میں بہتری صنعت، برآمدات اور گھریلو طلب پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ماہرین نے زور دیا کہ اخراجات میں ترجیحات کا تعین، ٹیکس بیس کی توسیع اور غیر ضروری سبسڈی میں بتدریج کمی جیسے اقدامات حکومت کی مالی گنجائش بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات افراطِ زر کے دباؤ کو کم کرنے اور شرحِ سود کے فیصلوں کو معقول بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
برآمدات، صنعتی ترقی اور روزگار
شرکاء نے برآمدات کی بحالی اور صنعتی ترقی کو بھی سمٹ کے اہم ایجنڈے میں رکھا۔ تجارتی پالیسی میں تسلسل، معیار اور پیداواری استعداد میں بہتری، اور برآمدی شعبوں کو مراعات کی صورت میں سپورٹ کو مؤثر حکمت عملی قرار دیا گیا۔ مقررین نے یہ بھی بتایا کہ جب صنعت اور خدمات کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے سماجی و معاشی استحکام مضبوط ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ ڈیجیٹل معیشت، مہارت سازی اور تحقیق و ترقی کے پروگراموں کو مستقبل کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق ہنر مند افرادی قوت اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھاؤ پیداواری صلاحیت بڑھاتا ہے اور برآمدی مقابلہ بہتر بناتا ہے۔
اتفاقِ رائے اور آئندہ حکمتِ عملی
سمٹ کے اختتامی مرحلے میں شرکاء نے مشترکہ طور پر یہ مؤقف اپنایا کہ معاشی استحکام کے لیے تین چیزیں بنیادی ہیں: پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات، اور سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد ماحول۔ حکومت سے توقع کی گئی کہ وہ مختصر اور طویل المدتی اہداف کو واضح کر کے عملدرآمد کی رفتار برقرار رکھے، جبکہ نجی شعبہ سرمایہ کاری کے ذریعے پیداوار اور روزگار میں اپنا کردار بڑھائے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 نے معاشی سمت کے بارے میں ایک متوازن پیغام دیا۔ مقررین کے مطابق اگر اصلاحات کے عمل کو مسلسل آگے بڑھایا گیا اور شفافیت کو مضبوط کیا گیا تو معیشت مزید استحکام کی طرف گامزن ہو سکتی ہے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)