معمر افراد: 6-8 گھنٹے سونے کے باوجود نیند کیوں خراب رہتی ہے؟
ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے 9 معمر افراد رات کو ماہرین کی تجویز کردہ چھ سے آٹھ گھنٹے سونے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ نتیجہ اس عام فہم کو چیلنج کرتا ہے کہ صرف سونے کی مدت بڑھا دینے سے نیند کی کیفیت خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑھاپے کے ساتھ نیند کا پیٹرن، جسمانی نظام اور دماغی سرگرمیاں بدلتی ہیں، جس کے باعث “کتنی دیر سونا” اور “کتنی اچھی نیند آنا” دو مختلف چیزیں بن جاتی ہیں۔
نیند کی کوالٹی کم ہونے کی بنیادی علامات میں رات کو بار بار جاگ جانا، جلدی بیدار ہو جانا، نیند میں ہلچل محسوس ہونا، اور صبح اٹھ کر تازگی نہ ملنا شامل ہیں۔ بہت سے بزرگ افراد بتاتے ہیں کہ وہ بستر پر کافی وقت گزارتے ہیں، مگر نیند گہری نہیں ہوتی۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے تحقیق نے کئی عوامل کی طرف اشارہ کیا ہے جو عمر کے ساتھ زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔
بزرگوں میں نیند کیوں ٹوٹتی ہے؟
تحقیق کے مطابق درج ذیل وجوہات نیند کی کوالٹی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں:
- سرکیڈین رِدم میں تبدیلی: جسم کی اندرونی گھڑی کمزور پڑنے سے نیند کا وقت متوازن نہیں رہتا، نتیجتاً نیند ہلکی اور بے ترتیب ہو سکتی ہے۔
- طبی مسائل: درد، سانس کی تکلیف، ریفلکس، یا بار بار پیشاب کی ضرورت رات کو نیند میں خلل ڈالتی ہے۔
- دواؤں کے اثرات: کچھ ادویات نیند کو متاثر کر سکتی ہیں، مثلاً آرام کی کیفیت کم کرنا یا رات کے اوقات میں چوکنا رکھنا۔
- ذہنی دباؤ اور بے چینی: تنہائی، فکر، یا ڈپریشن جیسے عوامل نیند کے تسلسل کو توڑ دیتے ہیں۔
- سونے سے متعلق عادات: دن میں جھپکیاں، رات کو دیر سے چائے/کافی، یا سونے کے کمرے میں روشنی اور شور نیند کو ہلکا کر دیتے ہیں۔
صرف گھنٹے نہیں، “گہری نیند” بھی ضروری ہے
ماہرین عموماً 6-8 گھنٹے کی سفارش کرتے ہیں، مگر بزرگوں میں نیند کے مراحل (جیسے گہری نیند اور REM) کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اگر جسم کو گہری نیند کے لیے مناسب حالات نہ ملیں تو بستر میں وقت پورا ہونے کے باوجود آرام کی کمی رہتی ہے۔ اسی لیے تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ نیند کی کوالٹی کو ہدف بنایا جائے، محض دورانیہ نہیں۔
عملی حل: نیند بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟
اگر آپ یا آپ کے گھر میں کوئی بزرگ نیند کی کیفیت سے پریشان ہیں تو درج ذیل اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:
- شیڈول کو مستقل رکھیں: ہر روز تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور بیدار ہونا سرکیڈین رِدم کو سہارا دیتا ہے۔
- کافین اور بھاری کھانے سے پرہیز: رات کے کھانے کے بعد چائے/کافی اور مسالے دار یا بھاری غذا نیند کو متاثر کر سکتی ہے۔
- دن کی جھپکی محدود کریں: اگر جھپکی ضروری ہو تو اسے مختصر اور دوپہر کے قریب رکھیں۔
- کمرہ پرسکون اور مدھم رکھیں: روشنی، شور اور غیر ضروری اسکرین ٹائم نیند میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
- طبی وجوہات کی جانچ: درد، سانس، ریفلکس یا نیند سے متعلق بیماریوں کا علاج نیند کی کوالٹی بہتر بنا سکتا ہے۔
- دواؤں کا جائزہ: اپنی تمام ادویات کی فہرست ڈاکٹر کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کوئی دوا نیند کو متاثر تو نہیں کر رہی۔
یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بزرگوں کی نیند صرف “گھنٹوں” سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے تسلسل، گہرائی اور بحالی کی صلاحیت بھی اہم ہے۔ بہتر حکمتِ عملی وہ ہوتی ہے جو عادات، ماحول اور طبی عوامل—تینوں کو بیک وقت مدنظر رکھے۔ اگر مسئلہ مسلسل رہے تو نیند کے ماہر یا معالج سے رجوع کرنا فائدہ مند رہے گا تاکہ بنیادی وجہ تک پہنچ کر درست حل اختیار کیا جا سکے۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)